پاکستان‘ عدلیہ اور مسلح افواج
وطن عزیز میں اگلے روز جو کچھ ہوا‘ جو ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے‘ اس پر بیرون ملک مقیم ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھ اشک بار ہی نہیں‘ پاکستان سے محبت رکھنے والے پرانی وضع قطع کے ان گورے‘ گوریوں کے دل بھی افسردہ ہیں جنہوں نے اسلام کے نام پر پاکستان کو معرض وجود میں آتے دیکھا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے سلسلہ وار ڈومور کے احکامات ڈالر کی اڑان‘ ایک کروڑ بچوں کے سکولوں سے باہر رہنے کا انکشاف‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ رشوت کے ریٹ میں کئی گنا اضافے اور ملک میں جاری خوفناک سیاسی صورتحال کا غم ابھی کم نہیں ہوا تھا کہ افواج پاکستان اور عسکری تنصیبات کیخلاف شرپسند عناصر نے دہشت گرد کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ نیم سرکاری عمارتوں‘ جنرل ہیڈ کوارٹرز اور کورکمانڈرز ریذیڈنٹس سمیت پولیس‘ رینجرز اور نیم سرکاری ایجنسیوں کی عمارات میں توڑ پھوڑ اور جناح ہاﺅس کو جس طرح نذر آتش کیا گیا‘ دنیا کے مہذب ممالک میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ توڑ پھوڑ اور گھیراﺅ جلاﺅ کرنیوالے ملک دشمن عناصر کون تھے؟ کورکمانڈروں کی ان رہائش گاہوں تک جہاں چڑیا تک پر نہیں مار سکتی‘ شرپسند عناصر نے کس طرح رسائی حاصل کی؟ ایٹمی قوت کا اعزاز رکھنے والی مملکت اسلامی کی مسلح افواج جس کا شمار دنیا کی پانچ بہترین تجربہ کار بہادر افواج میں ہوتا ہے جس کے کمانڈوز کو دنیا کے نمبرون کمانڈوز قرار دیا جا چکا ہے‘ کیخلاف آواز اٹھی۔ آخر وہ ایسے کونسے دشمن عناصر تھے جن کی شرپسندی سے پاکستان کی دنیا میں ایک مرتبہ پھر جنگ ہنسائی ہوئی ہے۔ قوم کو اپنی افواج پاکستان پر جو دہشت گردی کیخلاف کئی برسوں سے ملک و قوم کے دفاع کیلئے لڑتے ہوئے آج بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں، فخر ہے۔ یہ ہماری بہادر فوج ہی ہے جس نے زلزلوں‘ سیلابوں‘ میدانوں‘ جنگلوں‘ دریاﺅں‘ سمندروں اور ملک کی سرحدوں کیلئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ غازیوں اور شہیدوں کا اعزاز حاصل کرنیوالی یہی وہ افواج پاکستان ہے جو بھارت کے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر کئے وحشیانہ ظلم و بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے سرحدوں پر ہمہ وقت الرٹ ہے۔ مگر افسوس! صد افسوس! کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام‘ سیاست دانوں کی مفاداتی لڑائی اور عدلیہ کے حالیہ فیصلوں پر کولیشن حکومت کی تنقید کے بعد ملک دشمن عناصر کا دائرہ کار افواج پاکستان تک وسیع ہو گیا۔ جناح ہاﺅس سمیت عسکری تنصیبات کو نذر آتش کرنے کے بعد شرپسندوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سیاست اور جمہوریت کی آڑ میں ملک دشمن عناصر آج بھی فعال ہیں جن کی یہ خواہش ہے کہ فوج اور عوام کو آمنے سامنے لا کر ملک کی تاریخ میں کسی نئے بدترین سیاہ باب کا اضافہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کہ ملک و قوم کے ایسے غدار لوگ اپنی ان مذموم کوششوں میں کامیاب نہیں ہوئے اور افواج پاکستان کے بروقت اقدامات سے ملک کسی بڑے حادثے سے بچ گیا۔ آگے اب کیا ہونے جا رہا ہے‘ لکھ نہیں پاﺅں گا کہ اپنے وطن کو میں اپنی ماں کا درجہ دیتا ہوں البتہ سوال دنیا میں جو اٹھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے‘ گھیراﺅ جلاﺅ اور افواج پاکستان کے چیف سمیت بعض تین سٹارز جنرلز کیخلاف خصوصی سیاسی مہم چلانے کے پس پردہ آخر وہ کونسے بنیادی ایسے عوامل تھے اور پھر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام پر مزید تیل چھڑکتے ہوئے ملک کی سالمیت کیخلاف ایسے اقدامات کئے ہیں۔ عوامی رائے کے مطابق کولیشن حکومت اور تحریک انصاف کی جاری اس سیاسی جنگ کا بنیادی ایشو عدالت عظمیٰ کا قومی انتخابات کے حوالے سے دیا گیا وہ حکم ہے جس کے تحت 90 دن میں پنجاب کے انتخابات کروانا ناگزیر تھا جبکہ دوسرا ایشو عمران خان پر قائم کئے جانیوالے سو سے زائد وہ مبینہ مقدمات ہیں جن کی پیروی پر تحریک انصاف خوش نہیں تھی۔ اس میں ایک پہلو ان افواہ سازوں کا بھی ہے جنہوں نے اپنے سیاسی یوٹیوب چینلز‘ ٹک ٹاک اور وی لاگ پروگراموں میں اپنے سیاسی نقطہ ہائے نظر کو اس زاویہ سے پیش کیا کہ سادہ لوح افراد یہ اندازہ ہی نہ کر پائے کہ پاکستان میں جاری سیاسی مفادات کی اس جنگ کو دنیا کے مہذب ممالک کس انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ میں انہی سطور میں پہلے بھی متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ 76 برسوں میں برطانوی جمہوریت کا رول ماڈل ہم نے ضرور حاصل کیا مگر جمہوریت اور عوامی حقوق کے اصلی مقاصد پورے کرنے میں سیاست دان تاہنوز کامیابی حاصل نہیں کر پائے اور یہی وہ بنیادی رکاوٹ ہے جو پاکستان کو دنیا میں سیاسی‘ معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط و مستحکم ہونے نہیں دے رہی۔
9 مئی سے آج 18 مئی 2023ءتک فوج‘ سیاست اور عدلیہ کے فیصلوں کے حوالہ سے ملک دشمن عناصر نے جو کچھ کیا اور جو وہ اب کرنے جا رہے ہیں وہ چشم کشا صورتِ حال ہے تاہم بعض اضلاع میں پولیس کے ہاتھوں بے گناہ افراد کی گرفتاریاں‘ چادر‘ چاردیواری کی پامالی اور بعض ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے معاندانہ طرز عمل سے دلی دکھ اور صدمہ ضرور پہنچا ہے۔ سی ایس ایس کرنیوالے ایسے افسران سے ہرگز ایسی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔
Comments
Post a Comment